نئی دہلی26 اگست (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) آج سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے چچا شیو پال یادو نے پارٹی میں اپنے تئیں غفلت کا بڑا الزام لگایا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پارٹی میں کوئی ذمہ دارانہ عہدہ نہیں دیا گیا اور ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی میں انتظار ہی کر رہا ہوں۔ اب کوئی دوسرا راستہ تلاش کرنا پڑے گا۔ اس بیان سے صاف ہے کہ ایس پی میں چچا بھتیجے یعنی اکھلیش اور شیو پال کے درمیان سب کچھ اچھے نہیں چل رہے ہیں ۔
شیو پال یادو نے جب یہ کہا کہ مجھے پارٹی میں ذمہ داری نہیں مل رہی ہے، انتظار کرتے کرتے ڈیڑھ سال ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آخر کتنا نظرانداز برداشت کیا جائے، برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔کل سماجوادی پارٹی کے بانی ملائم سنگھ یادو نے بھی بڑا بیان دیا تھا جس سے ان کا درد سامنے آیا تھا۔ ملائم سنگھ یادو نے کہا تھا کہ آج ہمارا کوئی احترام نہیں کرتا۔ شاید میرے مرنے کے بعد میرا احترام ہو۔ لوہیا جی بھی یہی کہتے تھے کہ اس ملک میں زندہ رہتے ہوئے کوئی عزت نہیں کرتا۔ اس پر ان کے چھوٹے بھائی شیو پال یادو نے کہا تھا کہ میں تو ان کا مکمل احترام کرتا ہوں لیکن جو نہیں کرتے ان کو ملائم سنگھ یادو کا احترام کرنا چاہئے۔کچھ وقت پہلے تک سیاسی حلقوں میں یہ بحث تھی کہ شیو پال یادو کو قومی جنرل سکریٹری کا عہدہ دیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
دراصل سال 2017 میں یوپی کے انتخابات سے قبل ملائم سنگھ یادو، شیو پال یادو اور اکھلیش کے درمیان خاندانی اختلافات ہو گئے تھے جس کا خمیازہ سماجوادی پارٹی کو انتخابات میں بھی بھگتنا پڑا تھا۔ اگرچہ پچھلے کچھ عرصے سے شیو پال یادو کی جانب سے اکھلیش کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش ہوئی تھی لیکن اس کا فائدہ ابھی تک شیو پال یادو کو ملتا نظر نہیں آ رہا ہے۔
حال ہی میں ذرائع کے حوالے سے خبر آئی تھی کہ شیو پال یادو کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی پارٹیوں کے رابطے میں ہیں۔ ان کے قریبی لوگوں کی مانیں تو شیو پال یادو اگلا لوک سبھا چناؤ لڑنے کے موڈ میں ہیں۔ پرچم اور بینر ابھی طے نہیں ہے لیکن ایسا مانا جا رہا ہے کہ سماجوادی پارٹی میں ان کے لئے راستہ اب بند ہو چکا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے آفس میں ان کے لئے کوئی جگہ بھی بچی نہیں ہے۔